تمام مخلص احباب اور قدردانوں کی خدمت میں سلامِ مسنون! بجانب: صوفی بھائی زندگی کے ایک نئے موڑ اور کچھ ذاتی فیصلوں کے تحت، میں نے اپنی زندگی بھر کی تما…
SuFi Poet
×
Faster & lighter experience
Baad mein install karein
⋮
Menu dabayein
📲
Add to Home Screen
All stories
عشق نے خوب انتقام لیا بے وفا سے وفا کا کام لیا عشق شاید اسی کو کہتے ہیں آنکھ نے آنکھ کا سلام لیا اور کوئی علاج تھا ہی نہیں ہار کر دل نے تیرا نام لیا …
زہر کے جام ہیں بہت سارے سچ کے انعام ہیں بہت سارے یہ جو ان کا سلام آیا ہے اس میں پیغام ہیں بہت سارے ذکر کس کا کریں کسے چھوڑیں ذہن میں نام ہیں بہت سارے…
زندگی کب یہاں صدمات جئے جاتے ہیں حادثہ ہو نہ ہو خدشات جئے جاتے ہیں کیا ضرورت ہے ہمیں دوست، کسی دشمن کی ہم تو اپنوں کی عنایات جئے جاتے ہیں ہے بسیرا مر…
کبھی آیا نہ وہ قابو ہمارے کھلے ہی رہ گئے بازو ہمارے سسکتے اور مرتے جا رہے ہیں تمہارے دشت میں آہو ہمارے ہوئی مشکل نہ ہم سے حل تمہاری نہ سیدھے ہو سکے ا…
سامنے بیٹھ کے کچھ بات بھی ہو سکتی ہے آپ چاہیں تو ملاقات بھی ہو سکتی ہے کس نے سمجھا ہے بدلتے ہوئے موسم کا مزاج دھوپ رہتے ہوئے برسات بھی ہو سکتی ہے ہات…
ہوا کا شور تو آج اور بھی زیادہ ہے چراغاں آنکھ میں کر لو اگر ارادہ ہے میں رہ گزر میں کہیں پر بکھر ہی جاؤں گا یہ میری روح پہ مٹی کا اک لبادہ ہے بہت دنو…
سلامت رہیں دل میں گھر کرنے والے اس اجڑے مکاں میں بسر کرنے والے گلے پر چھری کیوں نہیں پھیر دیتے اسیروں کو بے بال و پر کرنے والے اندھیرے اجالے کہیں تو …
جتنی لکھی تھی مقدر میں ہم اتنی پی چکے اب تو دن مرنے کے ہیں جینا تھا جتنا جی چکے اے زمانے اب نہ آنا ہم کو سمجھانے کبھی اپنی کہہ لی سب کی سن لی ہونٹھ ا…
سب صحیفوں کو طاق پر رکھ دو جی نہیں مانتا مگر رکھ دو اشک جی کھول کر بہا لوں میں ہاتھ آنکھوں پہ تم اگر رکھ دو جس میں ماحول ہی نہ ہو گھر کا ایک کونے میں…
نہتے آدمی پہ بڑھ کے خنجر تان لیتی ہے محبت میں نہ پڑ جانا محبت جان لیتی ہے اسے خاموش دیکھوں تو سنائی کچھ نہیں دیتا دکھائی کچھ نہیں دیتا نظر جب کان لیت…
تمہارے پاس آتے ہیں تو سانسیں بھیگ جاتی ہیں محبت اتنی ملتی ہے کہ آنکھیں بھیگ جاتی ہیں تبسم عطر جیسا ہے ہنسی برسات جیسی ہے وہ جب بھی بات کرتی ہے تو بات…
کون سا طائر گم گشتہ اسے یاد آیا دیکھتا بھالتا ہر شاخ کو صیاد آیا میرے قابو میں نہ پہروں دل ناشاد آیا وہ مرا بھولنے والا جو مجھے یاد آیا کوئی بھولا ہو…
وہ جو اک شخص وہاں ہے وہ یہاں کیسے ہو ہجر پر وصل کی حالت کا گماں کیسے ہو بے نمو خواب میں پیوست جڑیں ہیں میری ایک گملے میں کوئی نخل جواں کیسے ہو تم تو …
بے نام دیاروں کا سفر کیسا لگا ہے اب لوٹ کے آئے ہو تو گھر کیسا لگا ہے کیسا تھا وہاں گرم دوپہروں کا جھلسنا برسات رتوں کا یہ نگر کیسا لگا ہے دن میں بھی …
چپکے سے نام لے کے تمہارا کبھی کبھی دل ڈوبنے لگا تو ابھارا کبھی کبھی ہر چند اشک یاس جب امڈے تو پی گئے چمکا فلک پہ ایک ستارا کبھی کبھی میں نے تو ہونٹ س…
جاں کے زیاں کو غم کی تلافی سمجھ لیا کم حوصلوں نے موت کو شافی سمجھ لیا جو گفتگو میں سب سے ضروری تھا وہ سخن ان کی سماعتوں نے اضافی سمجھ لیا اک شرط جستج…
اک دن تمام فرض ادا کر دئے گئے سارے اسیر ذات رہا کر دئے گئے وہ ہی تو غم گسار ہمارے تھے شہر میں سنتے ہیں اب کے وہ بھی خدا کر دئے گئے دو دل کسی بھی طرح …
شعور خاص عطا کر دیا گیا ہے مجھے تبھی تو سب سے جدا کر دیا گیا ہے مجھے میں عشق عین تصوف کی رو سے جائز ہوں برا نہیں ہوں برا کر دیا گیا ہے مجھے میں بندگی…
کچھ بھی نہ کہنا کچھ بھی نہ سننا لفظ میں لفظ اترنے دینا مٹی کا یہ پیالہ اپنے آب حیات سے بھرنے دینا میں بھی محض اک جسم نہیں ہوں تم بھی محض اک روح نہیں …