SuFi Poet

×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen

احمد فراز

جون ایلیاء

پروین شاکر

علامہ اقبال

مرزا غالب

آخری پیش کی گئی 👇

All stories

قَلْب جب دَرْد آشنا نہ ہُوا یار کا ہونا بھی دَوا نہ ہُوا ہم تڑپتے رہے شبِ فُرقت ایک لَمحہ بھی جاں فِزا نہ…
یہ زِندگی نے ہَمیں اور کَیا دِیا ہے زیبؔ جَہاں بھی سَر کو اُٹھایا جُھکا دِیا ہے زیبؔ تَپِش کا خوف دِلا کر ہے کھیلا …
پھول کھلتے رہے عمر بھر گھاس پر   رنگ و بو کا رہا ہے گزر گھاس پر   دھوپ دیوار و در پر کھڑی تھی مگر   سایہ لایا ہے اپنا شجر گھاس پر   آسماں سے فرشتے ات…
کہاں دشمن کی نگاہوں میں نمی ہوتی ہے خندہ لب پہ فقط خندہ زنی ہوتی ہے ضبط کی راہ میں ایسی بھی گھڑی ہوتی ہے آنکھ جب رونے پہ آئے تو ہنسی ہوتی ہے جب بھی آ…
گماں میں جلوہ محبوب کا سامان کرتا ہوں میں اپنے آپ سے اکثر عجب پیمان کرتا ہوں لہو سے خنجر قاتل پہ یہ احسان کرتا ہوں وہ مانگے یا نہ مانگے جان و دل قربا…
کاش اک بار میں جاؤں درِ آقا دیکھوں اتنی حسرت ہے کہ سرکار کا روضہ دیکھوں سفر ایسا ہو کہ جنت سے ہوا آنے لگے جب میں پہنچوں وہاں رحمت کا برسنا دیکھوں عشق…
سراب عشق میں ہم عمر جاں برباد کرتے ہیں غم ہجراں کو مثل باد صرصر یاد کرتے ہیں شکست دل کو ہم نے حرف تقدیر خدا جانا سراپا شکر رہ کر شعلہ فریاد کرتے ہیں …
سوال اندر سوال لے کر کہاں چلے ہو یہ آسمان ملال لے کر کہاں چلے ہو جنوں کے رستے میں یہ خودی بھی عذاب ہوگی خرد کا کوہ وبال لے کر کہاں چلے ہو کہاں پہ کھو…
نواب زادی تمہیں کہا تھا  کے تم ہو اونچے گھرانے والی  تمہارے اجداد شان والے  تمہارے گھر میں ہزار نوکر  تمہارے قدموں میں سنگ مر مر مگر میں ادنیٰ غریب ز…
رنجش ہی سہی دل ہی دُکھانے کے لئے آ آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لئے آ کچھ تو مرے پندارِ محبت کا بھرم رکھ تُو بھی تَو کبھی مجھ کو منانے کے لئے آ پہلے…
محبتوں کا صلہ زخم جاں میں رکھا ہے وہ مسکرائے کہ خنجر دہاں میں رکھا ہے وفا کے نام پہ ہم نے عذاب سہنے تھے سو اک فریب کا پیکر گماں میں رکھا ہے بہار خواب…
باغباں جشن بہاراں نہیں ہونے دیتے دیپ الفت کے فروزاں نہیں ہونے دیتے زہر الفت کا پلاتے ہیں بڑے فخر کے ساتھ آپ انسان کو انساں نہیں ہونے دیتے خود نمائی م…
ریشمی جذبات کی توہین کر کے چل دیئے دل کی حالت اور بھی سنگین کر کے چل دیئے آپ کے ہوتے ہوئے تھوڑی بہت امید تھی آپ بھی تو صبر کی تلقین کرکے چل دیئے …
اگر یہ ضد ہے کہ مجھ سے دعا سلام نہ ہو تو ایسی راہ سے گزرو جو راہ عام نہ ہو سنا تو ہے کہ محبت پہ لوگ مرتے ہیں خدا کرے کہ محبت تمہارا نام نہ ہو بہار عا…
مری زندگی تو فراق ہے وہ ازل سے دل میں مکیں سہی وہ نگاہ شوق سے دور ہیں رگ جاں سے لاکھ قریں سہی ہمیں جان دینی ہے ایک دن وہ کسی طرح وہ کہیں سہی ہمیں آپ…
ریشمی جذبات کی توہین کر کے چل دیئے  دل کی حالت اور بھی سنگین کر کے چل دیئے  آپ کے ہوتے ہوئے تھوڑی بہت امید تھی آپ بھی تو صبر کی تلقین کرکے چل دیئے  چ…
پرانے داؤں پر ہر دن نئے آنسو لگاتا ہے وہ اب بھی اک پھٹے رومال پر خوشبو لگاتا ہے اسے کہہ دو کہ یہ اونچائیاں مشکل سے ملتی ہیں وہ سورج کے سفر میں موم کے…
مسجدوں کے صحن تک جانا بہت دشوار تھا دیر سے نکلا تو میرے راستے میں دار تھا دیکھتے ہی دیکھتے شہروں کی رونق بن گیا کل یہی چہرہ ہمارے آئنوں پر بار تھا اپ…
ساتھ منزل تھی مگر خوف و خطر ایسا تھا عمر بھر چلتے رہے لوگ سفر ایسا تھا حفظ تھیں مجھ کو بھی چہروں کی کتابیں کیا کیا دل شکستہ تھا مگر تیز نظر ایسا تھا …
...