×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen

اہل جہاں کو مجھ سے عداوت ہے کیا کروں

اہل جہاں کو مجھ سے عداوت ہے کیا کروں
یہ طرز انتقام محبت ہے کیا کروں

ناکامیٔ وفا پہ ندامت ہے کیا کروں
اے دل یہ ایک تلخ حقیقت ہے کیا کروں

خود غم پسند میری طبیعت ہے کیا کروں
اس کو ہر ایک رنج میں راحت ہے کیا کروں

اظہار درد دل بھی کچھ آساں نہیں مگر
ضبط ستم بھی ایک مصیبت ہے کیا کروں

اپنا رہا ہوں غم کو بڑے احترام سے
روز ازل سے یہ مری عادت ہے کیا کروں

دل کا قرار چھین لیا کس کی یاد نے
یہ زندگیٔ ہجر مصیبت ہے کیا کروں

میرے پیام مہر و وفا کا اثر ہو کیا
دنیا ہی بے نیاز محبت ہے کیا کروں

بے وجہ جس کے ناز اٹھاتا ہوں رات دن
اس بے وفا کو مجھ سے عداوت ہے کیا کروں

اپنی مصیبتوں کا کسی سے گلہ نہیں
اپنا ہی دل مرے لیے آفت ہے کیا کروں

دل میں تڑپ ہے سوز ہے غم ہے ملال ہے
اے جذب شوق یہ مری قسمت ہے کیا کروں

ارمان عیش کا نہ تمنا نشاط کی
جو مل گیا اسی پہ قناعت ہے کیا کروں

ہمت شکن ہیں راہ محبت کے مرحلے
ہر موڑ ہر قدم پہ مصیبت ہے کیا کروں

خود میرا دل بھی بات مری مانتا نہیں
اس پر بھی اب کسی کی حکومت ہے کیا کروں

کیا خوب ہے یہ عالم دنیائے شوق بھی
اک بے وفا سے مجھ کو محبت ہے کیا کروں

آئے نہ آئے دل کو یقیں لیکن اے کنولؔ
ان کے ہر ایک وعدے میں لذت ہے کیا کروں

...
0:00
0:00
0:00