×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen
پرانے داؤں پر ہر دن نئے آنسو لگاتا ہے وہ اب بھی اک پھٹے رومال پر خوشبو لگاتا ہے اسے کہہ دو کہ یہ اونچائیاں مشکل سے ملتی ہیں وہ سورج کے سفر میں موم کے…
مسجدوں کے صحن تک جانا بہت دشوار تھا دیر سے نکلا تو میرے راستے میں دار تھا دیکھتے ہی دیکھتے شہروں کی رونق بن گیا کل یہی چہرہ ہمارے آئنوں پر بار تھا اپ…
ساتھ منزل تھی مگر خوف و خطر ایسا تھا عمر بھر چلتے رہے لوگ سفر ایسا تھا حفظ تھیں مجھ کو بھی چہروں کی کتابیں کیا کیا دل شکستہ تھا مگر تیز نظر ایسا تھا …
جو یہ ہر سو فلک منظر کھڑے ہیں نہ جانے کس کے پیروں پر کھڑے ہیں تلا ہے دھوپ برسانے پہ سورج شجر بھی چھتریاں لے کر کھڑے ہیں انہیں ناموں سے میں پہچانتا ہو…
ہاتھ خالی ہیں ترے شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہمیں پہچانتا ہے عمر گزری ہے ترے شہر میں آتے جاتے اب کے مایوس…
روز تاروں کو نمائش میں خلل پڑتا ہے چاند پاگل ہے اندھیرے میں نکل پڑتا ہے ایک دیوانہ مسافر ہے مری آنکھوں میں وقت بے وقت ٹھہر جاتا ہے چل پڑتا ہے اپنی ت…
...
0:00
0:00
0:00