اوج پر موجِ سخن تھی کہ چلا تھا میں بھی لہر در لہر ہویدا ہوا کیا کیا میں بھی بادِ لب ریز نے نم دیکھ لیا مٹی کا اور پھر زعمِ نمو سے نکل آیا میں بھی …
×
Faster & lighter experience
Baad mein install karein
⋮
Menu dabayein
📲
Add to Home Screen