محبتوں کا صلہ زخم جاں میں رکھا ہے
محبتوں کا صلہ زخم جاں میں رکھا ہے
وہ مسکرائے کہ خنجر دہاں میں رکھا ہے
وفا کے نام پہ ہم نے عذاب سہنے تھے
سو اک فریب کا پیکر گماں میں رکھا ہے
بہار خواب کی امید کی تھی لیکن پھر
خزاں کا نقش ہی ہر آستاں میں رکھا ہے
جو سنگ دل تھے وہی مسندوں پہ بیٹھے ہیں
غریب دل کو فقط امتحاں میں رکھا ہے
یہ دل کی آگ بجھانے کا ذکر کیسا ہے؟
کہ شعلہ اور بھی ہر استخواں میں رکھا ہے
یہ عشق خواب نہیں اک جلا وطن دکھ ہے
جو اپنے خون سے ہم نے اماں میں رکھا ہے
سحر کی روشنیوں پر یقین مت کرنا
اندھیروں ہی کو تو ہر کہکشاں میں رکھا ہے
ہزار بار کیا ہم نے صبر کا دعویٰ
مگر عذاب ہی ہر امتحاں میں رکھا ہے
جو بانٹے درد مرا سمجھے میری خاموشی
ایسا کوئی نہیں اس جہاں میں رکھا ہے؟
یہاں کے قاضی و عادل تو سنگ دل نکلے
عبادتوں کو بھی سود و زیاں میں رکھا ہے
ہزار نقش تھے تقدیر کے حجابوں میں
سو اک امید کو چشم تپاں میں رکھا ہے
محبتوں کا تقدس بھی بیچ ڈالا گیا
وفا کا نام فقط داستاں میں رکھا ہے
میں اپنے اشک کو پیکان کر گیا ہوں زیب
سو ایک شعلے کو چشم فغاں میں رکھا ہے
منجانب: الموسا
Join the conversation