نہ ہوا نصیب قرار جاں ہوس قرار بھی اب نہیں ترا انتظار بہت کیا ترا انتظار بھی اب نہیں تجھے کیا خبر مہ و سال نے ہمیں کیسے زخم دیے یہاں تری یادگار تھی اک…
×
Faster & lighter experience
Baad mein install karein
⋮
Menu dabayein
📲
Add to Home Screen
عمر گزرے گی امتحان میں کیا داغ ہی دیں گے مجھ کو دان میں کیا میری ہر بات بے اثر ہی رہی نقص ہے کچھ مرے بیان میں کیا مجھ کو تو کوئی ٹوکتا بھی نہیں یہی ہ…
کوئے جاناں میں اور کیا مانگو حالت حال یک صدا مانگو ہر نفس تم یقین منعم سے رزق اپنے گمان کا مانگو ہے اگر وہ بہت ہی دل نزدیک اس سے دوری کا سلسلہ مانگو …
دل جو اک جائے تھی دنیا ہوئی آباد اس میں پہلے سنتے ہیں کہ رہتی تھی کوئی یاد اس میں وہ جو تھا اپنا گمان آج بہت یاد آیا تھی عجب راحت آزادئ ایجاد اس میں …
کیا ہوئے آشفتہ کاراں کیا ہوئے یاد یاراں یار یاراں کیا ہوئے اب تو اپنوں میں سے کوئی بھی نہیں وہ پریشاں روزگاراں کیا ہوئے سو رہا ہے شام ہی سے شہر دل شہ…
ذکر گل ہو خار کی باتیں کریں لذت و آزار کی باتیں کریں ہے مشام شوق محروم شمیم زلف عنبر بار کی باتیں کریں دور تک خالی ہے صحرائے نظر آہوئے تاتار کی باتیں…
دل سے ہے بہت گریز پا تو تو کون ہے اور ہے بھی کیا تو کیوں مجھ میں گنوا رہا ہے خود کو مجھ ایسے یہاں ہزار ہا تو ہے تیری جدائی اور میں ہوں ملتے ہی کہیں ب…
جو گزر دشمن ہے اس کا رہ گزر رکھا ہے نام ذات سے اپنی نہ ہلنے کا سفر رکھا ہے نام پڑ گیا ہے اک بھنور اس کو سمجھ بیٹھے ہیں گھر لہر اٹھی ہے لہر کا دیوار و…
مسکن ماہ و سال چھوڑ گیا دل کو اس کا خیال چھوڑ گیا تازہ دم جسم و جاں تھے فرقت میں وصل اس کا نڈھال چھوڑ گیا عہد ماضی جو تھا عجب پر حال ایک ویران حال چھ…
اک زخم بھی یاران بسمل نہیں آنے کا مقتل میں پڑے رہیے قاتل نہیں آنے کا اب کوچ کرو یارو صحرا سے کہ سنتے ہیں صحرا میں اب آئندہ محمل نہیں آنے کا واعظ کو خ…
یہ جو سنا اک دن وہ حویلی یکسر بے آثار گری ہم جب بھی سائے میں بیٹھے دل پر اک دیوار گری جوں ہی مڑ کر دیکھا میں نے بیچ اٹھی تھی اک دیوار بس یوں سمجھو می…
دل کا دیار خواب میں دور تلک گزر رہا پاؤں نہیں تھے درمیاں آج بڑا سفر رہا ہو نہ سکا ہمیں کبھی اپنا خیال تک نصیب نقش کسی خیال کا لوح خیال پر رہا نقش گرو…