×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen
    Detecting Location...
    NEXT EVENT --:--:--
    SEHRI --:--
    IFTAR --:--
    📅 View Full Calendar

    اک زخم بھی یاران بسمل نہیں آنے کا

    اک زخم بھی یاران بسمل نہیں آنے کا
    مقتل میں پڑے رہیے قاتل نہیں آنے کا

    اب کوچ کرو یارو صحرا سے کہ سنتے ہیں
    صحرا میں اب آئندہ محمل نہیں آنے کا

    واعظ کو خرابے میں اک دعوت حق دی تھی
    میں جان رہا تھا وہ جاہل نہیں آنے کا

    بنیاد جہاں پہلے جو تھی وہی اب بھی ہے
    یوں حشر تو یاران یک دل نہیں آنے کا

    بت ہے کہ خدا ہے وہ مانا ہے نہ مانوں گا
    اس شوخ سے جب تک میں خود مل نہیں آنے کا

    گر دل کی یہ محفل ہے خرچہ بھی ہو پھر دل کا
    باہر سے تو سامان محفل نہیں آنے کا

    وہ ناف پیالے سے سرمست کرے ورنہ
    ہو کے میں کبھی اس کا قائل نہیں آنے کا


    ...