×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen
    Detecting Location...
    NEXT EVENT --:--:--
    SEHRI --:--
    IFTAR --:--
    📅 View Full Calendar

    یہ جو سنا اک دن وہ حویلی یکسر بے آثار گری

    یہ جو سنا اک دن وہ حویلی یکسر بے آثار گری
    ہم جب بھی سائے میں بیٹھے دل پر اک دیوار گری

    جوں ہی مڑ کر دیکھا میں نے بیچ اٹھی تھی اک دیوار
    بس یوں سمجھو میرے اوپر بجلی سی اک بار گری

    دھار پہ باڑ رکھی جائے اور ہم اس کے گھائل ٹھہریں
    میں نے دیکھا اور نظروں سے ان پلکوں کی دھار گری

    گرنے والی ان تعمیروں میں بھی ایک سلیقہ تھا
    تم اینٹوں کی پوچھ رہے ہو مٹی تک ہموار گری

    بے داری کے بستر پر میں ان کے خواب سجاتا ہوں
    نیند بھی جن کی ٹاٹ کے اوپر خوابوں سے نادار گری

    خوب ہی تھی وہ قوم شہیداں یعنی سب بے زخم و خراش
    میں بھی اس صف میں تھا شامل وہ صف جو بے وار گری

    ہر لمحہ گھمسان کا رن ہے کون اپنے اوسان میں ہے
    کون ہے یہ؟ اچھا تو میں ہوں لاش تو ہاں اک یار گری

    ...