×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen

دل جو اک جائے تھی دنیا ہوئی آباد اس میں

دل جو اک جائے تھی دنیا ہوئی آباد اس میں
پہلے سنتے ہیں کہ رہتی تھی کوئی یاد اس میں

وہ جو تھا اپنا گمان آج بہت یاد آیا
تھی عجب راحت آزادئ ایجاد اس میں

ایک ہی تو وہ مہم تھی جسے سر کرنا تھا
مجھے حاصل نہ کسی کی ہوئی امداد اس میں

باغ جاں سے تو کبھی رات گئے گزرا ہے
کہتے ہیں رات میں کھیلیں ہیں پری زاد اس میں

ایک خوشبو میں رہی مجھ کو تلاش خد و خال
رنگ فصلیں مری یارو ہوئیں برباد اس میں

دل محلے میں عجب ایک قفس تھا یارو
صید کو چھوڑ کے رہنے لگا صیاد اس میں


...