×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen
    Detecting Location...
    NEXT EVENT --:--:--
    SEHRI --:--
    IFTAR --:--
    📅 View Full Calendar

    اوج پر موجِ سخن تھی کہ چلا تھا میں بھی

    اوج پر موجِ سخن تھی کہ چلا تھا میں بھی
     لہر در لہر ہویدا ہوا کیا کیا میں بھی 

    بادِ لب ریز نے نم دیکھ لیا مٹی کا 
    اور پھر زعمِ نمو سے نکل آیا میں بھی 

    اس کی فطرت میں نہ تھا ریگِ رواں ہو جانا 
    گلِ کم رنگ بنا ہوں لبِ دریا میں بھی 

     کسمساتی ہی رہی سینہ ء گل میں تری یاد 
    گوندھ آیا تری خوشبو سے سراپا میں بھی 

    راس آتا ہے بگولوں کو کہاں حجرہ ء دل 
    ہو کے ضو ریز چلا جانبِ صحرا میں بھی 

    صدفِ صبر بکھیرے گا درِ سبز بہت 
    اپنی رفتار سے پہنچا تو چنوں گا میں بھی 

     بیچ مقتل میں کوئی ٹھیس نمودار ہوئی 
    بھیڑ میں گُم نہ ہوا ، زخم سا نکلا میں بھی 


    ...