ایک تو محبوب اچھا بھی نہ ہو
ایک تو محبوب اچھا بھی نہ ہو
پھر بغیر اس کے گزرا بھی نہ ہو
اس کو کہتے ہیں محبت پر یقین
اس کو چاہا بھی ہو مانگا بھی نہ ہو
جس کو بھی دیکھا محبت ہو گئی
آدمی اتنا اکیلا بھی نہ ہو
کیا کرے گا تجھ کو میرے بعد اگر
وہ ملے جو میرے جیسا بھی نہ ہو
زندگی کیسے گزاروں اس کے ساتھ
جو تمہارے بعد آیا بھی نہ ہو
خواب میں آ کر ڈراتے ہیں مجھے
میں نے جن لوگوں کو دیکھا بھی نہ ہو
Join the conversation