میں تمہیں کوئ خسارہ نہیں ہونے دیتا
میں تمہیں کوئ خسارہ نہیں ہونے دیتا
یعنی میں خود کو تمہارا نہیں ہونے دیتا
ریت پر چنتا نہیں میں بھی کبھی اینٹوں کو
اس کی مٹی کو بھی گارا نہیں ہونے دیتا
اچھے وقتوں کا اشارہ نہیں ملتا جب تک
میں۔ ستارے کو ستارہ نہیں ہونے دیتا
میں بھی دکھ درد سے الحاق نہیں کرتا کبھی
اس کو بھی رنج گوارہ نہیں ہونے دیتا
عشق ہے ! چھوڑ بھی سکتا ہے مجھے اس ڈر سے
خود کو میں اس کا۔ بھی پیارا نہیں ہونے دیتا
آدھی روٹی میں گزارہ تو میں کر سکتا ہوں
پر میں خود اپنا گزارہ نہیں ہونے دیتا
جب تلک۔ فہم و فراست نہ ہوں بیدار مری
اس کی آنکھوں سے اشارہ نہیں ہونے دیتا
سورتیں پڑھتا ہی۔ رہتا ہوں مکرر کہ یہ لطف
دیر۔ تک ختم سپارہ نہیں ہونے دیتا ،!
توبہ کر لیتا ہے جب کوئ گنہہ کر کے عشق
وہ۔ گنہہ مجھ سے دوبارا نہیں ہونے دیتا
کھینچ لاتا ہے پس ۔ پردہ سے تابانیاں عشق
پر انہیں جزو ۔ نظارہ نہیں ہونے دیتا
Join the conversation