کمرے میں اب دیا نہ جلا میں اداس ہوں
کمرے میں اب دیا نہ جلا میں اداس ہوں
مجھ کو اکیلا چھوڑ کے جا میں اداس ہوں
جس سے تمام رات میں کرتی تھی گفتگو
وہ بھی ستارہ ٹوٹ گیا میں اداس ہوں
کوئی نہیں تھا پاس جو دیتا تسلیاں
دل آسماں سے کہتا رہا میں اداس ہوں
آواز آئی غیب سے کیا چاہیے تمہیں
میں نے جواباً اتنا کہا میں اداس ہوں
کل اُس کو دیکھتے ہی مرا چہرہ کھل اٹھا
اس کو کہیں سے بھی نہ لگا میں اداس ہوں
تجھ سا تو کوئی دُوسرا ہے ہی نہیں یہاں
کیسے بھرے گا تیرا خلا میں اداس ہوں
خود کو بھی کھو چکی ہوں کِرن اپنے ہاتھ سے
اُس جیسا بھی نہ کوئی ملا میں اداس ہوں
Join the conversation