×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen

کیا جانے کتنا عرصہ لگے میری بیل میں!


کیا جانے کتنا عرصہ لگے میری بیل میں!
مدّت سے قید ہوں کسی نادیدہ جیل میں

تِیلی جلا کے پھینکنے والا ہے، کوئی دُکھ
لت پت پڑی ہے زندگی، مٹّی کے تیل میں

لہریں ہنسی ہنسی میں اچانک بپھر گئیں
اک ناؤ مجھ سے ڈُوب گئی کھیل کھیل میں

بڑھنے لگا ہے زیست کے اسٹال پر ہجوم
بِک ہی نہ جاؤں مَیں بھی کہِیں لُوٹ سیل میں!

اک یاد محوِ رقص ہوئی اور اِس طرح!
سب کُچھ لُٹانا پڑ گیا صرف ایک ویل میں

شاخِ ابد پہ مجھ کو نشانہ بنا سکے
اتنی لچک کہاں ہے زماں کی غلیل میں!

اب اپنے اپنے خواب کی بوگی میں قید ہیں
بیٹھے تھے ساتھ ساتھ کبھی ایک ریل میں

کِس کِس جگہ سے مَیں تجھے پیچھے دھکیلتا!
خُود کو کُچل دیا ہے، تری ریل پیل میں
...