محبتوں کا ہے نام وحشت
محبتوں کا ہے نام وحشت
سو میرا سارا کلام ، وحشت
نماز میری قضا ہوئی پھر
چُنا تھا میں نے امام، وحشت
سنبھال رکھا ہے تیرا تحفہ
ہے پاس میرے تمام ، وحشت
کہاں کہاں سے مُجھے گُزارا
تجھے ہے میرا سلام ، وحشت!
نہیں ضرورت ملن کی اب تو
ہے آ گیا اب مقام وحشت
حرام مت کر، تُو میرا جینا
پیام بھیجوں ، بنام وحشت
ارم ! بتا کیا ہوا ہے تجھ کو؟
جو تجھ پہ طاری ہے شام وحشت
Join the conversation