×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen

پرانے داؤں پر ہر دن نئے آنسو لگاتا ہے

پرانے داؤں پر ہر دن نئے آنسو لگاتا ہے
وہ اب بھی اک پھٹے رومال پر خوشبو لگاتا ہے

اسے کہہ دو کہ یہ اونچائیاں مشکل سے ملتی ہیں
وہ سورج کے سفر میں موم کے بازو لگاتا ہے

میں کالی رات کے تیزاب سے سورج بناتا ہوں
مری چادر میں یہ پیوند اک جگنو لگاتا ہے

یہاں لچھمن کی ریکھا ہے نہ سیتا ہے مگر پھر بھی
بہت پھیرے ہمارے گھر کے اک سادھو لگاتا ہے

نمازیں مستقل پہچان بن جاتی ہے چہروں کی
تلک جس طرح ماتھے پر کوئی ہندو لگاتا ہے

اندھیرے اور اجالے میں یہ سمجھوتہ ضروری ہے
نشانے ہم لگاتے ہیں ٹھکانے تو لگاتا ہے

نہ جانے یہ انوکھا فرق اس میں کس طرح آیا
وہ اب کالر میں پھولوں کی جگہ بچھو لگاتا ہے


...