×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen

فلک کو جیسے ستاروں نے گھیر رکھا ہے

فلک کو جیسے ستاروں نے گھیر رکھا ہے
ہمیں یوں تیرے خیالوں نے گھیر رکھا ہے

ہمارے گھر میں اندھیرے بھٹک نہیں سکتے
ہمارے گھر کو اجالوں نے گھیر رکھا ہے

تمہاری یاد ہمیں ایسے گھیرے رہتی ہے
ندی کو جیسے کناروں نے گھیر رکھا ہے

ہمارے ذہن میں کیا آئے گی کوئی لڑکی
ہمارا ذہن تو حوروں نے گھیر رکھا ہے

خبر یہ جس کو ملی پڑ گیا وہ حیرت میں
کہ ایک شخص کو لاکھوں نے گھیر رکھا ہے

تمہارے ساتھ گزارے تھے جو کبھی اے دوست
ہمیں تو بس انہیں لمحوں نے گھیر رکھا ہے

جواب جن کے زمانے میں مل نہیں سکتے
مجھے کچھ ایسے سوالوں نے گھیر رکھا ہے

تمہارے ہجر کا ہم کو نہیں ہے کوئی غم
تمہارے وصل کی یادوں نے گھیر رکھا ہے

جو تم گئے تو نہ آئی کوئی بہار عاصمؔ
ہمارا باغ خزاؤں نے گھیر رکھا ہے


...
0:00
0:00
0:00