مجھ کو اپنی خودی سے نفرت ہے
مجھ کو اپنی خودی سے نفرت ہے
اپنی ہستی سے ہی عداوت ہے
کام آتا نہیں ہے اور علاج
وصل ہی چارہ ساز فرقت ہے
اے فلک کیا بگاڑا میں نے ترا
مجھ سے کس واسطے عداوت ہے
میں ہوں اے جاں وفا شعار ترا
ظلم کرنا تو تیری عادت ہے
عشق کر کے ہوا ہوں میں بدنام
دل لگانا بھی اک مصیبت ہے
تو نے اتنا بھی تو نہیں پوچھا
ان دنوں کیسی تیری حالت ہے
نکل آتے ہیں قبر سے مردے
تیری ٹھوکر میں اک قیامت ہے
توبہ لب پر ہے دل میں شوق شراب
شیخ جی کیا بری یہ علت ہے
ایک مجذوب ہے جو خاک نشیں
عرش اعلیٰ سے اس کو نسبت ہے
یہ جو کثرت ہے اپنے پیش نظر
یہی وحدت کی اک علامت ہے
آپ نے جو مزاج پرسی کی
آپ کی یہ بڑی عنایت ہے
صحبت بد سے اجتناب کرو
ورنہ اک روز اس میں ذلت ہے
روٹھ جانا ذرا سی باتوں پر
بچپنے کی تمہاری عادت ہے
خوف کیا دشمنی سے دشمن کی
شادؔ پر جب خدا کی رحمت ہے
Join the conversation