×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen

مجھ کو اپنی خودی سے نفرت ہے

مجھ کو اپنی خودی سے نفرت ہے
اپنی ہستی سے ہی عداوت ہے

کام آتا نہیں ہے اور علاج
وصل ہی چارہ ساز فرقت ہے

اے فلک کیا بگاڑا میں نے ترا
مجھ سے کس واسطے عداوت ہے

میں ہوں اے جاں وفا شعار ترا
ظلم کرنا تو تیری عادت ہے

عشق کر کے ہوا ہوں میں بدنام
دل لگانا بھی اک مصیبت ہے

تو نے اتنا بھی تو نہیں پوچھا
ان دنوں کیسی تیری حالت ہے

نکل آتے ہیں قبر سے مردے
تیری ٹھوکر میں اک قیامت ہے

توبہ لب پر ہے دل میں شوق شراب
شیخ جی کیا بری یہ علت ہے

ایک مجذوب ہے جو خاک نشیں
عرش اعلیٰ سے اس کو نسبت ہے

یہ جو کثرت ہے اپنے پیش نظر
یہی وحدت کی اک علامت ہے

آپ نے جو مزاج پرسی کی
آپ کی یہ بڑی عنایت ہے

صحبت بد سے اجتناب کرو
ورنہ اک روز اس میں ذلت ہے

روٹھ جانا ذرا سی باتوں پر
بچپنے کی تمہاری عادت ہے

خوف کیا دشمنی سے دشمن کی
شادؔ پر جب خدا کی رحمت ہے


...
0:00
0:00
0:00