×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen

اللہ رے فیض ایک جہاں مستفید ہے

اللہ رے فیض ایک جہاں مستفید ہے
ہر مست میرے پیر مغاں کا مرید ہے

واعظ عبث یہ ذکر عذاب شدید ہے
اک توبہ قفل رحمت حق کی کلید ہے

وحشت نے ہم کو جامۂ خاکی پہنا دیا
اے عقل اب یہ کاہے کی قطع و برید ہے

اے رہروان جادۂ الفت بڑھے چلو
یہ کس نے کہہ دیا ہے کہ منزل بعید ہے

کیونکر نہ قرب حق کی طرف دل مرا کیجیے
گردن اسیر حلقۂ حبل الورید ہے

اب جام جم کی مجھ کو ضرورت نہیں رہی
وہ دل ملا ہے جس میں دو عالم کی دید ہے

واللیل ہے کہ زلف معنبر حضور کی
یہ روئے پاک ہے کہ کلام مجید ہے

ہلکی سی اک خراش ہے قاصد کے حلق پر
یہ خط جواب خط ہے کہ خط کی رسید ہے

خنجر بکف وہ کہتے ہیں اب آئے سامنے
کس کو خیال وصل ہے ارمان دید ہے

مجھ خستہ دل کی عید کا کیا پوچھنا حضور
جن کے گلے سے آپ ملے ان کی عید ہے

تو دیکھے اور بندے پہ تیرے عذاب ہو
یارب یہ تیری شان کرم سے بعید ہے

شیشے کا معتقد ہے ارادت ہے جام سے
کس پیر مے فروش کا بیدمؔ مرید ہے


...
0:00
0:00
0:00