×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen

کام ہے جم سے نہ مطلب جام سے

کام ہے جم سے نہ مطلب جام سے
آشنا ہیں لب تمہارے نام سے

لب بہ لب ہوں ساقیٔ گلفام سے
عاریت لے لیں مقدر جام سے

گھر بنانا ہے کسی کی یاد کا
کام لینا ہے دل ناکام سے

دل بھی آنکھوں کی طرح مشتاق ہے
لو اتر آؤ تم اپنے بام سے

چھا رہی ہے میکشوں پر بے خودی
کیا کہا شیشے نے جھک کر جام سے

اک ستم گر سے لڑاتا ہوں نگاہ
جام کو ٹکرا رہا ہوں جام سے

عید ہے ہنگامۂ محشر نہیں
وہ ملیں گے آج خاص و عام سے

قبر بھی جنت ہے مومن کے لئے
چل کے مضطرؔ سو رہو آرام سے


...
0:00
0:00
0:00