چہرے بدل بدل کے مجھے مل رہے ہیں لوگ
چہرے بدل بدل کے مجھے مل رہے ہیں لوگ
اتنا بُرا سلوک مری سادگی کے ساتھ؟
منسوب تھے جو لوگ مری زندگی کے ساتھ
اکثر وہی ملے ہیں بڑی بےرُخی کے ساتھ
یوں تو میں ہنس پڑا ہوں تمہارے لیے مگر
کتنے ستارے ٹوٹ پڑے اِک ہنسی کے ساتھ
فرصت ملے تو اپنا گریباں بھی دیکھ لے
اے دوست! یوں نہ کھیل مری بےبسی کے ساتھ
مجبوریوں کی بات چلی ہے تو مے کہاں
ہم نے پیا ہے زہر بھی اکثر خوشی کے ساتھ
چہرے بدل بدل کے مجھے مل رہے ہیں لوگ
اتنا بُرا سلوک مری سادگی کے ساتھ؟
اک سجدۂ خلوص کی قیمت، فضائے خلد؟
یارب! نہ کر مذاق مری بندگی کے ساتھ
محسنؔ، کرم بھی ہو جس میں، خلوص بھی
مجھ کو غضب کا پیار ہے اُس دشمنی کے ساتھ
https://res.cloudinary.com/div3sace8/video/upload/v1779602160/Mohsin_Naqvi_Poetry____top_trending_urdu_shayari____whatsapp_status_shayari_360P_k6625x.mp4
Join the conversation