رنجش ہی سہی دل ہی دُکھانے کے لئے آ آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لئے آ کچھ تو مرے پندارِ محبت کا بھرم رکھ تُو بھی تَو کبھی مجھ کو منانے کے لئے آ پہلے…
SuFi Poet
×
Faster & lighter experience
Baad mein install karein
⋮
Menu dabayein
📲
Add to Home Screen
All stories
محبتوں کا صلہ زخم جاں میں رکھا ہے وہ مسکرائے کہ خنجر دہاں میں رکھا ہے وفا کے نام پہ ہم نے عذاب سہنے تھے سو اک فریب کا پیکر گماں میں رکھا ہے بہار خواب…
باغباں جشن بہاراں نہیں ہونے دیتے دیپ الفت کے فروزاں نہیں ہونے دیتے زہر الفت کا پلاتے ہیں بڑے فخر کے ساتھ آپ انسان کو انساں نہیں ہونے دیتے خود نمائی م…
ریشمی جذبات کی توہین کر کے چل دیئے دل کی حالت اور بھی سنگین کر کے چل دیئے آپ کے ہوتے ہوئے تھوڑی بہت امید تھی آپ بھی تو صبر کی تلقین کرکے چل دیئے …
اگر یہ ضد ہے کہ مجھ سے دعا سلام نہ ہو تو ایسی راہ سے گزرو جو راہ عام نہ ہو سنا تو ہے کہ محبت پہ لوگ مرتے ہیں خدا کرے کہ محبت تمہارا نام نہ ہو بہار عا…
مری زندگی تو فراق ہے وہ ازل سے دل میں مکیں سہی وہ نگاہ شوق سے دور ہیں رگ جاں سے لاکھ قریں سہی ہمیں جان دینی ہے ایک دن وہ کسی طرح وہ کہیں سہی ہمیں آپ…
ریشمی جذبات کی توہین کر کے چل دیئے دل کی حالت اور بھی سنگین کر کے چل دیئے آپ کے ہوتے ہوئے تھوڑی بہت امید تھی آپ بھی تو صبر کی تلقین کرکے چل دیئے چ…
پرانے داؤں پر ہر دن نئے آنسو لگاتا ہے وہ اب بھی اک پھٹے رومال پر خوشبو لگاتا ہے اسے کہہ دو کہ یہ اونچائیاں مشکل سے ملتی ہیں وہ سورج کے سفر میں موم کے…
مسجدوں کے صحن تک جانا بہت دشوار تھا دیر سے نکلا تو میرے راستے میں دار تھا دیکھتے ہی دیکھتے شہروں کی رونق بن گیا کل یہی چہرہ ہمارے آئنوں پر بار تھا اپ…
ساتھ منزل تھی مگر خوف و خطر ایسا تھا عمر بھر چلتے رہے لوگ سفر ایسا تھا حفظ تھیں مجھ کو بھی چہروں کی کتابیں کیا کیا دل شکستہ تھا مگر تیز نظر ایسا تھا …
جو یہ ہر سو فلک منظر کھڑے ہیں نہ جانے کس کے پیروں پر کھڑے ہیں تلا ہے دھوپ برسانے پہ سورج شجر بھی چھتریاں لے کر کھڑے ہیں انہیں ناموں سے میں پہچانتا ہو…
کوئے جاناں میں اور کیا مانگو حالت حال یک صدا مانگو ہر نفس تم یقین منعم سے رزق اپنے گمان کا مانگو ہے اگر وہ بہت ہی دل نزدیک اس سے دوری کا سلسلہ مانگو …
دل جو اک جائے تھی دنیا ہوئی آباد اس میں پہلے سنتے ہیں کہ رہتی تھی کوئی یاد اس میں وہ جو تھا اپنا گمان آج بہت یاد آیا تھی عجب راحت آزادئ ایجاد اس میں …
کیا ہوئے آشفتہ کاراں کیا ہوئے یاد یاراں یار یاراں کیا ہوئے اب تو اپنوں میں سے کوئی بھی نہیں وہ پریشاں روزگاراں کیا ہوئے سو رہا ہے شام ہی سے شہر دل شہ…
ذکر گل ہو خار کی باتیں کریں لذت و آزار کی باتیں کریں ہے مشام شوق محروم شمیم زلف عنبر بار کی باتیں کریں دور تک خالی ہے صحرائے نظر آہوئے تاتار کی باتیں…
قربان میں اُن کی بخشش کے مقصد بھی زباں پر آیا نہیں بن مانگے دیا اور اتنا دیا دامن میں ہمارے سمایا نہیں ایمان ملا اُن کے صدقے قرآن ملا اُن کے صدقے رحم…
گلزار ہست و بود نہ بیگانہ وار دیکھ ہے دیکھنے کی چیز اسے بار بار دیکھ آیا ہے تو جہاں میں مثال شرار دیکھ دم دے نہ جائے ہستیٔ نا پائیدار دیکھ مانا کہ تی…
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے قدسی الاصل ہے رفعت پہ نظر رکھتی ہے خاک سے اٹھتی ہے گردوں پہ گزر رکھتی ہے عشق تھا ف…
ہر بول اُس کا روح کے آزار چاٹ لے جس کی زبان خاکِ درِ یار چاٹ لے گُل چِیں نہ پا سکا کبھی جوہر پہ دسترس مشکل ہے کوئی پھول کی مہکار کی چاٹ لے ملتا ہے او…
وہ تو خوش بو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا مسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائے گا ہم تو سمجھے تھے کہ اک زخم ہے بھر جائے گا کیا خبر تھی کہ رگ جاں میں اتر جائے…