×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen

خود کو اتنا بھی طلب گار نہیں کرنا تھا

خود کو اتنا بھی طلب گار نہیں کرنا تھا
بات کرنی تھی مگر پیار نہیں کرنا تھا

دیکھ غصے نے تجھے آج فنا کر ڈالا
بس یہی کام تجھے یار نہیں کرنا تھا

وہ تو تو خود ہی مرے سامنے آیا ورنہ
یار مجھ کو ترا دیدار نہیں کرنا تھا

اس میں آ جاتے ہیں اب دیکھ لے ایرے غیرے
اپنے دل کو تجھے بازار نہیں کرنا تھا

اس نے پوچھا تھا تمہیں مجھ سے محبت ہے نا
ایسے موقع پہ تو انکار نہیں کرنا تھا

اس قدر مرنے سے ڈرنا بھی نہیں تھا ہم کو
اس قدر جینا بھی دشوار نہیں کرنا تھا


...