جو کوئی کر نا سکے وہ باپ کرتا ہے
جو کوئی کر نا سکے وہ باپ کرتا ہے
دُکھوں کو سہتا ہے مرتا ہے چاپ کرتا ہے
نبھانے اپنا وہ وعدہ کہ خوش رہیں بچے
وہ بیچ دیتا ہے اپنا یہ آپ کرتا ہے
ہر ایک فرد سے بڑھ کر وہ کام کرتا ہے
حساب جس کا نا ہو بے حساب کرتا ہے
جتن وہ کرتا ہے خود کو ضعیف دکھنے سے
اُسے نا بوڑھا سمجھ لیں خضاب کرتا ہے
نا بات ایسی کوئی ہو جو روزی جانے لگے
وہ سُن کے جھڑکیاں بھی جی جناب کرتا ہے
وہ نیند پوری نا کر پاۓ یہ بھی ہوتا ہے
وہ دان بچوں کو سارے خواب کرتا ہے
ابھی سمجھ نا سکے گے یہ بات سب بچے
وہ کیسے خوشیوں کو ہم رکاب کرتا ہے
رضا جو لکھتے ہو باتیں دلوں کی یاد رہے
زمانہ ایسوں سے بس اجتناب کرتا ہے
Join the conversation