×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen
    Detecting Location...
    NEXT EVENT --:--:--
    SEHRI --:--
    IFTAR --:--
    📅 View Full Calendar

    شوق رقص سے جب تک انگلیاں نہیں کھلتیں

    شوق رقص سے جب تک انگلیاں نہیں کھلتیں
    پاؤں سے ہواؤں کے بیڑیاں نہیں کھلتیں

    پیڑ کو دعا دے کر کٹ گئی بہاروں سے
    پھول اتنے بڑھ آئے کھڑکیاں نہیں کھلتیں

    پھول بن کے سیروں میں اور کون شامل تھا
    شوخی صبا سے تو بالیاں نہیں کھلتیں

    حسن کے سمجھنے کو عمر چاہئے جاناں
    دو گھڑی کی چاہت میں لڑکیاں نہیں کھلتیں

    کوئی موجۂ شیریں چوم کر جگائے گی
    سورجوں کے نیزوں سے سیپیاں نہیں کھلتیں

    ماں سے کیا کہیں گی دکھ ہجر کا کہ خود پر بھی
    اتنی چھوٹی عمروں کی بچیاں نہیں کھلتیں

    شاخ شاخ سرگرداں کس کی جستجو میں ہیں
    کون سے سفر میں ہیں تتلیاں نہیں کھلتیں

    آدھی رات کی چپ میں کس کی چاپ ابھرتی ہے
    چھت پہ کون آتا ہے سیڑھیاں نہیں کھلتیں

    پانیوں کے چڑھنے تک حال کہہ سکیں اور پھر
    کیا قیامتیں گزریں بستیاں نہیں کھلتیں


    ...