×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen
    Detecting Location...
    NEXT EVENT --:--:--
    SEHRI --:--
    IFTAR --:--
    📅 View Full Calendar

    گلاب ہاتھ میں ہو آنکھ میں ستارہ ہو

    گلاب ہاتھ میں ہو آنکھ میں ستارہ ہو
    کوئی وجود محبت کا استعارہ ہو

    میں گہرے پانی کی اس رو کے ساتھ بہتی رہوں
    جزیرہ ہو کہ مقابل کوئی کنارہ ہو

    کبھی کبھار اسے دیکھ لیں کہیں مل لیں
    یہ کب کہا تھا کہ وہ خوش بدن ہمارا ہو

    قصور ہو تو ہمارے حساب میں لکھ جائے
    محبتوں میں جو احسان ہو تمہارا ہو

    یہ اتنی رات گئے کون دستکیں دے گا
    کہیں ہوا کا ہی اس نے نہ روپ دھارا ہو

    میں اپنے حصے کے سکھ جس کے نام کر ڈالوں
    کوئی تو ہو جو مجھے اس طرح کا پیارا ہو

    افق تو کیا ہے در کہکشاں بھی چھو آئیں
    مسافروں کو اگر چاند کا اشارا ہو

    اگر وجود میں آہنگ ہے تو وصل بھی ہے
    وہ چاہے نظم کا ٹکڑا کہ نثر پارہ ہو


    ...