×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen
    Detecting Location...
    NEXT EVENT --:--:--
    SEHRI --:--
    IFTAR --:--
    📅 View Full Calendar

    شب وہی لیکن ستارہ اور ہے

    شب وہی لیکن ستارہ اور ہے
    اب سفر کا استعارہ اور ہے

    ایک مٹھی ریت میں کیسے رہے
    اس سمندر کا کنارہ اور ہے

    موج کے مڑنے میں کتنی دیر ہے
    ناؤ ڈالی اور دھارا اور ہے

    جنگ کا ہتھیار طے کچھ اور تھا
    تیر سینے میں اتارا اور ہے

    متن میں تو جرم ثابت ہے مگر
    حاشیہ سارے کا سارا اور ہے

    ساتھ تو میرا زمیں دیتی مگر
    آسماں کا ہی اشارہ اور ہے

    دھوپ میں دیوار ہی کام آئے گی
    تیز بارش کا سہارا اور ہے

    ہارنے میں اک انا کی بات تھی
    جیت جانے میں خسارا اور ہے

    سکھ کے موسم انگلیوں پر گن لیے
    فصل غم کا گوشوارہ اور ہے

    دیر سے پلکیں نہیں جھپکیں مری
    پیش جاں اب کے نظارہ اور ہے

    اور کچھ پل اس کا رستہ دیکھ لوں
    آسماں پر ایک تارہ اور ہے

    حد چراغوں کی یہاں سے ختم ہے
    آج سے رستہ ہمارا اور ہے


    ...