×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen
    Detecting Location...
    NEXT EVENT --:--:--
    SEHRI --:--
    IFTAR --:--
    📅 View Full Calendar

    قید میں گزرے گی جو عمر بڑے کام کی تھی

    قید میں گزرے گی جو عمر بڑے کام کی تھی
    پر میں کیا کرتی کہ زنجیر ترے نام کی تھی

    جس کے ماتھے پہ مرے بخت کا تارہ چمکا
    چاند کے ڈوبنے کی بات اسی شام کی تھی

    میں نے ہاتھوں کو ہی پتوار بنایا ورنہ
    ایک ٹوٹی ہوئی کشتی مرے کس کام کی تھی

    وہ کہانی کہ ابھی سوئیاں نکلیں بھی نہ تھیں
    فکر ہر شخص کو شہزادی کے انجام کی تھی

    یہ ہوا کیسے اڑا لے گئی آنچل میرا
    یوں ستانے کی تو عادت مرے گھنشیام کی تھی

    بوجھ اٹھاتے ہوئے پھرتی ہے ہمارا اب تک
    اے زمیں ماں تری یہ عمر تو آرام کی تھی


    ...