کہاں تلک کوئی گلیوں میں بھٹکے ، ٹھیک کیا
کہاں تلک کوئی گلیوں میں بھٹکے ، ٹھیک کیا
یہ شام ہوتے ہی گھر کو پلٹ کے ٹھیک کیا
برہنہ زندگی ورنہ تماشہ بن جاتی
قبائے خستگی ! مجھ سے لپٹ کے ٹھیک کیا
تمہاری بے حسی مجھ کو یقیں دلا رہی ہے
تمہاری چاہ سے اس دل نے ہٹ کے ، ٹھیک کیا
انا کی جنگ میں اس نے بھی ہار مانی نہیں
اور اس محاذ پہ دل نے بھی ڈٹ کے ٹھیک کیا
مسافرت کی اذیت کو لوگ جان گئے
تو گویا پاؤں کے چھالوں نے پھٹ کے ٹھیک کیا
اسے بھی علم ہو لفظوں کی چوٹ کیسی تھی
سو اس کے سامنے ٹکڑوں میں بٹ کے ٹھیک کیا
کبھی کہوں نظر آنا تو چاہئیے تھا مجھے
کبھی کہوں "نہیں" ، خود میں سمٹ کے ٹھیک کیا
یہی ترقی کے رستے میں اک رکاوٹ تھی
غریب شخص کی ریڑھی الٹ کے ٹھیک کیا
Join the conversation