ہو کوئی مہرباں یا رب کلیجہ منہ کو آتا ہے
تازہ غزل
ہو کوئی مہرباں یا رب! کلیجہ منہ کو آتا ہے
ہُوا ہے ضبط مشکل اب، کلیجہ منہ کو آتا ہے
گزر جاتا ہے دن دل کو تھپکنے میں مگر ہمدم!
جواں ہوتی ہے جوں ہی شب، کلیجہ منہ کو آتا ہے
کوئی جائے اماں ملتی نہیں ہم بے امانوں کو
تمہاری یاد آئے جب، کلیجہ منہ کو آتا ہے
محبت کے سفر میں مرحلے سب اک سے ہوتے ہیں
بتائیں کیا تمہیں کب کب کلیجہ منہ کو آتا ہے
تمہاری برہمی دیکھو ہماری جاں کی دشمن ہے
خفا ہوتے ہو تم جب، تب کلیجہ منہ کو آتا ہے
تمہارے بعد موسم، پھول، کلیاں، چاند اور تارے
چِڑاتے ہیں ہمیں یہ سب، کلیجہ منہ کو آتا ہے
ہماری چیخ سینے کے سبھی حلقوں کو توڑے گی
نہیں سِل پائیں گے اب لب، کلیجہ منہ کو آتا ہے
Join the conversation