×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen

آبادیوں میں دشت کا منظر بھی آئے گا

آبادیوں میں دشت کا منظر بھی آئے گا
گزرو گے شہر سے تو مرا گھر بھی آئے گا

اچھی نہیں نزاکت احساس اس قدر
شیشہ اگر بنوگے تو پتھر بھی آئے گا

سیراب ہو کے شاد نہ ہوں رہروان شوق
رستے میں تشنگی کا سمندر بھی آئے گا

دیر و حرم میں خاک اڑاتے چلے چلو
تم جس کی جستجو میں ہو وہ در بھی آئے گا

سرشار ہو کے جا چکے یاران مے کدہ
ساقی ہمارے نام کا ساغر بھی آئے گا

اس واسطے اٹھاتے ہیں کانٹوں کے ناز ہم
اک دن تو اپنے ہاتھ گل تر بھی آئے گا

اتنی بھی یاد خوب نہیں عہد عشق کی
نظروں میں ترک عشق کا منظر بھی آئے گا

روداد عشق اس لیے اب تک نہ کی بیاں
دل میں جو درد ہے وہ زباں پر بھی آئے گا

جس دن کی مدتوں سے ہے نوشادؔ جستجو
کیا جانے دن ہمیں وہ میسر بھی آئے گا
...
0:00
0:00
0:00