مرگِ احساس پہ احباب کی آمین کا دکھ
مرگِ احساس پہ احباب کی آمین کا دکھ
بے کفن جسدِ تعلق تری تدفین کا دکھ
اسلیے نیند سے بنتی ہے نہ اب آنکھوں سے
میں نے جھیلا ہے کسی خواب کی توہین کا دکھ
اپنے دکھ کم تو نہیں اور میں ہمدردی میں
روز کے روز اٹھا لاتی ہوں دو تین کا دکھ
سب کے سب ہنستے ہوئے وقت کے ہمراہی ہیں
کوئی سنتا ہی نہیں ہے دلِ غمگین کا دکھ
رائیگاں حُسن پہ کاٹی ہو جوانی جس نے
ایسی عورت ہی سمجھ سکتی ہے پروین کا دکھ
Join the conversation