ہمارے واسطے چارہ نہیں تھا ہارے بغیر
ہمارے واسطے چارہ نہیں تھا ہارے بغیر
کہ خواب آئے لٹیروں کے روپ دھارے بغیر
یہ دیکھ کے بہت اُن پانیوں کو آگ لگی
کہ کوئی ڈوب گیا المدد پکارے بغیر
اب اُس کو دیکھتے ہیں تو یقیں نہیں آتا
یہی اُٹھاتا تھا قسمیں کہ میں تمہارے بغیر
نہیں ملا ترے جنگل میں اک بھی ٹھیک شکار
سو واپس آ گئے ہم کوئی تیر مارے بغیر
خدا کی ایک نشانی میں آسمان بھی ہیں
زمیں پہ میں بھی کھڑا ہوں کسی سہارے بغیر
وہ اپنے چین کی سیٹی نہیں بجاتا ہے
دُکھوں کی ریل مرے جسم سے گزارے بغیر
محبتوں کے ہزار اور نفرتوں کے کروڑ
سو مجھ کو موت نہ آئے یہ قرض اتارے بغیر
Join the conversation