×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen

یہ کربِ آگہی جھیلا ہے ، بے بہا وہ بھی

یہ کربِ آگہی جھیلا ہے ، بے بہا وہ بھی
جو درد میرا مقدر نہ تھا سہا وہ بھی

امیرِ شہر نے کھلوائی خود زبان مری
مجھے جو کہنا نہیں چاہئیے ، کہا وہ بھی

یہ دل میں آب رواں سا بتا رہا ہے مجھے
جو اشک آنکھ میں آیا نہ تھا بہا وہ بھی

تمام مرد ہی فطرت میں ایک جیسے ہیں
جدا جو خود کو یہاں پر سمجھ رہا ، وہ بھی

ترے خلاف بغاوت میں سب ہی شامل ہیں
ترے بھروسے کا نوکر ہے جو ، شہا وہ بھی

جو سچ کہوں تو غلط بھی نہیں کہا اس نے
وہ بدنصیب مجھے کہہ گیا ، مہا وہ بھی


...
0:00
0:00
0:00