×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen

چپکے سے نام لے کے تمہارا کبھی کبھی

چپکے سے نام لے کے تمہارا کبھی کبھی
دل ڈوبنے لگا تو ابھارا کبھی کبھی

ہر چند اشک یاس جب امڈے تو پی گئے
چمکا فلک پہ ایک ستارا کبھی کبھی

میں نے تو ہونٹ سی لیے اس دل کو کیا کروں
بے اختیار تم کو پکارا کبھی کبھی

زہر الم کی اور بڑھانے کو تلخیاں
بے مہریوں کے ساتھ مدارا کبھی کبھی

رسوائیوں سے دور نہیں بے قراریاں
دل کو ہو کاش صبر کا یارا کبھی کبھی

قطرہ سے ایک موج یہ کہتی نکل گئی
ساحل سے مصلحت ہے کنارا کبھی کبھی

اے شاہد جمال کوئی شکل ہے کی ہو
تیری نظر سے تیرا نظارہ کبھی کبھی

ہنگام گریہ آہ سے ناداں اثرؔ حذر
اڑتا ہے اشک جیسے شرارہ کبھی کبھی
...
0:00
0:00
0:00