×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen

جاں کے زیاں کو غم کی تلافی سمجھ لیا

جاں کے زیاں کو غم کی تلافی سمجھ لیا
کم حوصلوں نے موت کو شافی سمجھ لیا

جو گفتگو میں سب سے ضروری تھا وہ سخن
ان کی سماعتوں نے اضافی سمجھ لیا

اک شرط جستجو بھی تھی منزل کے واسطے
ہم نے بس آرزو کو ہی کافی سمجھ لیا

خوددارئ جنوں میں ان آنکھوں نے تیرے بعد
اشکوں کو بھی وفا کے منافی سمجھ لیا

جاذبؔ نہ جانے کون سی دنیا کا شخص تھا
جس نے سزاؤں کو بھی معافی سمجھ لیا
...
0:00
0:00
0:00