×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen

اک دن تمام فرض ادا کر دئے گئے

اک دن تمام فرض ادا کر دئے گئے
سارے اسیر ذات رہا کر دئے گئے

وہ ہی تو غم گسار ہمارے تھے شہر میں
سنتے ہیں اب کے وہ بھی خدا کر دئے گئے

دو دل کسی بھی طرح نہ جب ہو سکے الگ
دو نام ہی ورق پہ جدا کر دئے گئے

وہ فرقتوں کے دن تھے وہ وقت عروج تھا
کتنے ہی زخم دل کو کما کر دئے گئے

شام سیہ بس اپنا سا منہ لے کے رہ گئی
سارے چراغ نذر ہوا کر دئے گئے

کچھ غم نصیب عشق تھے کچھ غم نصیب زیست
کچھ غم مزاج دل پہ عطا کر دئے گئے

درکار ہو گیا تھا کہانی میں کچھ نیا
ہم لوگ اس لیے بھی جدا کر دئے گئے

اک چہرۂ حسین مٹانے کی ضد تھی اور
آنکھوں کے سارے رنگ فنا کر دئے گئے

کچھ روز بعد ہو گئے جب خوگر قفس
چپکے سے سب پرندے رہا کر دئے گئے
...
0:00
0:00
0:00