×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen

شعور خاص عطا کر دیا گیا ہے مجھے

شعور خاص عطا کر دیا گیا ہے مجھے
تبھی تو سب سے جدا کر دیا گیا ہے مجھے

میں عشق عین تصوف کی رو سے جائز ہوں
برا نہیں ہوں برا کر دیا گیا ہے مجھے

میں بندگی کے بھی معیار سے گرا ہوا ہوں
خدا کی خیر خدا کر دیا گیا ہے مجھے

یہ غفلتیں تو مرے خواب سے بھی ڈرتی ہیں
مرا ضمیر جگا کر دیا گیا ہے مجھے

وہ مجھ سے پوچھ رہے تھے مری کوئی خواہش
مجھے لگا کہ رہا کر دیا گیا ہے مجھے

اسے تو اب بھی طلب سی لگی ہوئی ہے کوئی
میں قرض تھا سو ادا کر دیا گیا ہے مجھے

تڑپ رہی ہے مری روح تک ابھی شاہدؔ
یہ زہر کچھ تو ملا کر دیا گیا ہے مجھے
...
0:00
0:00
0:00