×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen

بے نام دیاروں کا سفر کیسا لگا ہے

بے نام دیاروں کا سفر کیسا لگا ہے
اب لوٹ کے آئے ہو تو گھر کیسا لگا ہے

کیسا تھا وہاں گرم دوپہروں کا جھلسنا
برسات رتوں کا یہ نگر کیسا لگا ہے

دن میں بھی دہل جاتا ہوں آباد گھروں سے
سایا سا مرے ساتھ یہ ڈر کیسا لگا ہے

ہونٹوں پہ لرزتی ہوئی خاموش صدا کا
آنکھوں کے دریچوں سے گزر کیسا لگا ہے

آنگن میں لگایا تھا شجر چاؤ سے میں نے
پھلنے پہ جو آیا تو ثمر کیسا لگا ہے
...
0:00
0:00
0:00