×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen

وہ جو اک شخص وہاں ہے وہ یہاں کیسے ہو

وہ جو اک شخص وہاں ہے وہ یہاں کیسے ہو
ہجر پر وصل کی حالت کا گماں کیسے ہو

بے نمو خواب میں پیوست جڑیں ہیں میری
ایک گملے میں کوئی نخل جواں کیسے ہو

تم تو الفاظ کے نشتر سے بھی مر جاتے تھے
اب جو حالات ہیں اے اہل زباں کیسے ہو

آنکھ کے پہلے کنارے پہ کھڑا آخری اشک
رنج کے رحم و کرم پر ہے رواں کیسے ہو

بھاؤ تاؤ میں کمی بیشی نہیں ہو سکتی
ہاں مگر تجھ سے خریدار کو ناں کیسے ہو

ملتے رہتے ہیں مجھے آج بھی غالبؔ کے خطوط
وہی انداز تخاطب کہ میاں کیسے ہو


...
0:00
0:00
0:00