خلق کی خلق چلی آتی ہے میخانے میں
خلق کی خلق چلی آتی ہے میخانے میں
ایسی کیا چیز ہے ساقی ترے پیمانے میں
کون کہتا ہے گلستاں ہی میں آتی ہے بہار
پھول کھلتے ہوئے دیکھے گئے ویرانے میں
تیری محفل کے وہ آداب بجا لائے کیا
اتنی تہذیب کہاں ہے ترے دیوانے میں
لوٹ جائیں گے تڑپ جائیں گے سننے والے
درد ہے سوز ہے غم ہے مرے افسانے میں
شعلہ شمع سے جلنے کی نہیں کچھ پروا
واہ کیا ہمت مردانہ ہے پروانے میں
مختلف ڈھب سے عبادت ہے خدا کی ہر جا
کعبۂ پاک میں گرجا میں صنم خانے میں
Join the conversation