یوں نبھ رہی ہے اپنی غم زندگی کے ساتھ
یوں نبھ رہی ہے اپنی غم زندگی کے ساتھ
نبھتی ہے جیسے اجنبی کی اجنبی کے ساتھ
آتے سبھی ہیں شور مچاتے جہان میں
جاتے ہیں سب جہاں سے مگر خامشی کے ساتھ
سب توڑ لیں گے رابطہ دنیا میں آپ سے
ملتے رہیں گے سب سے اگر بے رخی کے ساتھ
رہتی ہیں ان سے دور جہاں بھر کی گردشیں
جیتے ہیں جو بھی زندگی زندہ دلی کے ساتھ
ساتھی وہی ہے سچا تمہارا جہان میں
اپنائے تم کو جو بھی تمہاری کمی کے ساتھ
ثانی نہیں ہے اس کا کوئی بھی جہان میں
کرتا ہے آدمی جو دغا آدمی کے ساتھ
ہیراؔ فضول آس ہے دنیا سے پالنا
کرتا کہاں وفا ہے زمانہ کسی کے ساتھ
Join the conversation