آباد دما دم آدم کی شہ رگ میں علی تن تن میں علی
آباد دما دم آدم کی شہ رگ میں علی تن تن میں علی
آباد دما دم آدم کی شہ رگ میں علی تن تن میں علی
لفظوں میں علی نبضوں میں علی سانسوں میں علی دھڑکن میں علی
اشکوں میں علی، آہوں میں علی، پلکوں میں علی، اکھین میں علی
دریا میں علی، موجوں میں علی، بادل میں علی، ساون میں علی
سرمست پون رم جھم میں علی، بجلی میں علی، خرمن میں علی
جھرنوں کی جھپکتی آنکھوں میں، تاروں سے بھرے آنگن میں علی
شہروں کی چہکتی شورش میں، چپ چاپ دھڑکتے بن میں علی
احساس کی ہریالی میں علی، ایماں کے ہرے گلشن میں علی
پاتال کی تہہ میں تخت نشیں، افلاک بکف بھگون میں علی
یٰسین کی نون گواہی دے، طہٰ کے سجل درشن میں
علی
واللیل کی قدر کا صدر سمجھ، والعصر کے کل کندن میں علی
کوثر کے حسن کا سرچشمہ، طوبیٰ کے جل جوبن میں علی
قرطاس و قلم کا رکھوالا، تقدیر کے ہر بندھن میں علی
لوحِ محفوظ میں وجہ اللہ، توحید نما درپن میں علی
افلاک تلک مسند آرا بے مسکن کے مسکن میں علی
کعبے میں علی قبلے میں علی مولد میں علی مدفن میں علی
معصوم گواہی عیسیٰ کی موسیٰ کے سخنور فن میں علی
یوسف یعقوب کا درد نگر ایوب کے شبھ شیون میں علی
اسرارِ شب اسریٰ کی قسم آیات کے اجلے پن میں علی
نوروز کی ضو میں جلوہ نما اور چودھویں رات کے چن میں علی
فولاد صفت کام آیا ہے اسلام کی ہر الجھن میں علی
خیبر میں علی خندق میں علی اور بدر و احد کے رن میں علی
معراج کی رات کی بات کرو، ہر بات کی ہر الجھن میں علی
قابِ قوسین کے نرم حسیں ریشم سے بنی چلمن میں علی
ہر مولائی کا ان داتا، ہر خاک نشیں کے من میں علی
پورب میں علی، پچھمّ میں علی، اتر میں علی دکھن میں علی
قرآن اٹھا کر کہتا ہوں، بسم اللہ کے دامن میں علی
حیدر سے عداوت مت رکھنا، ہر گام پہ ٹھوکر کھاؤ گے
پچھتاؤگے، گھبراؤگے، بردوشِ ہوا جل جاؤگے
Join the conversation