×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen

رنگ شراب سے مری نیت بدل گئی

رنگ شراب سے مری نیت بدل گئی
واعظ کی بات رہ گئی ساقی کی چل گئی

تیار تھے نماز پہ ہم سن کے ذکر حور
جلوہ بتوں کا دیکھ کے نیت بدل گئی

مچھلی نے ڈھیل پائی ہے لقمے پہ شاد ہے
صیاد مطمئن ہے کہ کانٹا نگل گئی

چمکا ترا جمال جو محفل میں وقت شام
پروانہ بیقرار ہوا شمع جل گئی

عقبیٰ کی باز پرس کا جاتا رہا خیال
دنیا کی لذتوں میں طبیعت بہل گئی

حسرت بہت ترقیٔ دختر کی تھی انہیں
پردہ جو اٹھ گیا تو وہ آخر نکل گئی


...
0:00
0:00
0:00