×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen

حالات سے خوف کھا رہا ہوں

حالات سے خوف کھا رہا ہوں
شیشے کے محل بنا رہا ہوں

سینے میں مرے ہے موم کا دل
سورج سے بدن چھپا رہا ہوں

محروم نظر ہے جو زمانہ
آئینہ اسے دکھا رہا ہوں

احباب کو دے رہا ہوں دھوکا
چہرے پہ خوشی سجا رہا ہوں

دریائے فرات ہے یہ دنیا
پیاسا ہی پلٹ کے جا رہا ہوں

ہے شہر میں قحط پتھروں کا
جذبات کے زخم کھا رہا ہوں

ممکن ہے جواب دے اداسی
در اپنا ہی کھٹکھٹا رہا ہوں

آیا نہ قتیلؔ دوست کوئی
سایوں کو گلے لگا رہا ہوں


...
0:00
0:00
0:00