×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen

الفاظ گفتگو کے لیے اب نہیں رہے

الفاظ گفتگو کے لیے اب نہیں رہے
محسوس ہو رہا ہے مرے لب نہیں رہے

مانا کہ فاصلے ہیں بہت پھر بھی یہ بتا
ہم تیرے ساتھ ساتھ بھلا کب نہیں رہے

کچھ دیر گفتگو میں تو شائستہ وہ رہا
پھر یوں ہوا کہ ہم بھی مہذب نہیں رہے

تیشے سے کوئی دودھ کی نہریں نکال دے
ہاتھوں میں اب وہ عشق کے کرتب نہیں رہے

ہاتھوں کو اس کی فتح کی خاطر اٹھا دیا
دیکھا کہ اس کے تیر و کماں جب نہیں رہے


...
0:00
0:00
0:00