حضرت میر کے شاگرد ہیں روحانی ہم
حضرت میر کے شاگرد ہیں روحانی ہم
شعر تخلیق کیا کرتے ہیں لا فانی ہم
ہم جو دریا کے کناروں پہ رہا کرتے ہیں
عشق کی موج میں بہتے ہیں بہ آسانی ہم
تیری شادابئ خاطر کی دعا کرتے ہیں
جب بھی آنچل کو ترے دیکھتے ہیں دھانی ہم
یعنی اس آدمی سے کوئی ہمیں مطلب ہے
باتیں ہر ایک سے کرتے نہیں لا یعنی ہم
وقت کے ساتھ ہر اک چیز بدل جاتی ہے
پہلے کہتے تھے سرائیکی کو ملتانی ہم
ایسا لگتا ہے کہ سب اپنے سوا جاہل ہیں
بات جب جان لیا کرتے ہیں انجانی ہم
ہم ترے بال بکھیریں گے کھلے ساحل پر
تیرے حصے کی تجھے دیں گے پریشانی ہم
زندگی زخم تو دے گی کبھی یاروں کو بھی
مٹھیاں بھر کے کریں گے نمک افشانی ہم
ہم سے لڑکی کوئی اٹھلا کے جو باتیں کر لے
اسے گڑیا ہی سمجھ لیتے ہیں جاپانی ہم
دیکھ عاشق ہیں ترے باپ کے نوکر تو نہیں
جو ترے حسن کی کرتے رہیں دربانی ہم
سب ستاروں سے نظر آج بچا کر یاورؔ
چوم آئے ہیں کوئی چاند سی پیشانی ہم
Join the conversation