×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen

حضرت میر کے شاگرد ہیں روحانی ہم

حضرت میر کے شاگرد ہیں روحانی ہم
شعر تخلیق کیا کرتے ہیں لا فانی ہم

ہم جو دریا کے کناروں پہ رہا کرتے ہیں
عشق کی موج میں بہتے ہیں بہ آسانی ہم

تیری شادابئ خاطر کی دعا کرتے ہیں
جب بھی آنچل کو ترے دیکھتے ہیں دھانی ہم

یعنی اس آدمی سے کوئی ہمیں مطلب ہے
باتیں ہر ایک سے کرتے نہیں لا یعنی ہم

وقت کے ساتھ ہر اک چیز بدل جاتی ہے
پہلے کہتے تھے سرائیکی کو ملتانی ہم

ایسا لگتا ہے کہ سب اپنے سوا جاہل ہیں
بات جب جان لیا کرتے ہیں انجانی ہم

ہم ترے بال بکھیریں گے کھلے ساحل پر
تیرے حصے کی تجھے دیں گے پریشانی ہم

زندگی زخم تو دے گی کبھی یاروں کو بھی
مٹھیاں بھر کے کریں گے نمک افشانی ہم

ہم سے لڑکی کوئی اٹھلا کے جو باتیں کر لے
اسے گڑیا ہی سمجھ لیتے ہیں جاپانی ہم

دیکھ عاشق ہیں ترے باپ کے نوکر تو نہیں
جو ترے حسن کی کرتے رہیں دربانی ہم

سب ستاروں سے نظر آج بچا کر یاورؔ
چوم آئے ہیں کوئی چاند سی پیشانی ہم


...
0:00
0:00
0:00