وہ ناؤ ڈوب گئی اب کنارہ چل رہا ہے
وہ ناؤ ڈوب گئی اب کنارہ چل رہا ہے
ٹھہر گیا تھا سمندر دوبارا چل رہا ہے
یہ کس کے خواب میں لو دے رہی ہے چھب کس کی
یہ کس کی نیند میں کس کا ستارہ چل رہا ہے
ابھی تو فیصلہ آیا نہیں محبت کا
ابھی سے کچھ نہ کہو استخارا چل رہا ہے
ٹھہرنا چاہیں بھی ہم تو ٹھہر نہیں سکتے
ہمارے ساتھ زمانہ ہمارا چل رہا ہے
مقام طے شدہ ہوتے ہیں دہر میں سب کے
زمیں پہ پھول فلک پہ ستارہ چل رہا ہے
ذرا جدید زمانے کی سائیکی سمجھو
سخن کو نعرہ بناؤ کہ نعرہ چل رہا ہے
مٹا ہی دے گی اجل لوح سے ہمیں آزرؔ
جہاں میں نام کوئی دن ہمارا چل رہا ہے
Join the conversation