یہ سرخ آنکھیں اداس لے کر کہاں چلے ہو
یہ سرخ آنکھیں اداس لے کر کہاں چلے ہو
کہ خواہش بے لباس لے کر کہاں چلے ہو
ہمیں تو درپیش ایک وحشت ہے تم بتاؤ
یہ خشک ہونٹوں پہ پیاس لے کر کہاں چلے ہو
ابھی تو ہم مبتلا ہوئے ہیں فدا ہوئے ہیں
ہمارے ہوش و حواس لے کر کہاں چلے ہو
یہاں عداوت پسند لوگوں کی بھیڑ ہے تم
دل محبت شناس لے کر کہاں چلے ہو
Join the conversation