خوں سے تر قصے لکھیں گے ایک دن
خوں سے تر قصے لکھیں گے ایک دن
خود سے وحشت میں ملیں گے ایک دن
آئنے میں ہم سا جو اک شخص ہے
حال اس کا بھی سنیں گے ایک دن
اس طرح جو چڑھ رہے ہو سیڑھیاں
آپ نظروں سے گریں گے ایک دن
کیا خبر تھی ہاتھ تیرا تھام کر
پتھروں میں جا بسیں گے ایک دن
یاد آخر کب تلک رکھو گے تم
چاند تارے بھی بجھیں گے ایک دن
نیند آ جائے جہاں ہر خواب کو
اس جگہ جا کر رہیں گے ایک دن
اور تو سب ٹھیک ہے لیکن سنو
ہجر کے مارے مریں گے ایک دن
Join the conversation